Click here

Latest Government Jobs in Pakistan

Showing posts with label islam. Show all posts
Showing posts with label islam. Show all posts

Tuesday, February 14, 2023

کاٹھے انگریز Part -2


NGO, flag of Pakistan, Pakistan, NGO working in Pakistan, NGOs, non Government Organizations, LIST OF NGO IN PAKISTAN

.

پیارے پاکستانیوں!

چلیں آج آپ کو بتاؤں کہ میڈیا کے علاؤہ اس ملک کے معاشرے کو فحاشی اور عریانی کی طرف چپکہ چپکہ کون مائل کرنے میں لگا ہوا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہے۔

پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہیں اور تعلیم،.

سماجی بہبود، صحت اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں ملک کے ہر حصہ اور قومی زندگی کے ہر شعبہ میں پھیلی ہوئی ہیں۔

ان میں بہت کم تعداد میں ایسی ہیں جو واقعی میں وہ کام کر رہی ہیں جن کا وہ دعویٰ کرتی ہیں۔

باقی غیر ملکی این جی اوز نے ثقافتی محاذ پر عریانی اور.

اسلامی اقدار و روایات کو مجروح کرنے اور خاندانی نظام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے  مکروہ حرکتوں کا ہر طرف جال پھیلا رکھا ہے اور پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کو کمزور کر کے وطن عزیز کو سیکولر ریاست کی حیثیت دینے کے لیے بہت سی این جی اوز جو کچھ کر رہی ہیں وہ کسی بھی محب وطن .

پاکستانی کو مضطرب کرنے کے لیے کافی ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے اس اضطراب اور بے چینی کا وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہتا ہے۔ لیکن یہ این جی اوز بے خوف و خطر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں بیرونی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ اس درجہ کی پشت پناہی میسر ہے کہ پاکستانی عوام کا.

احتجاج اور اضطراب بلکہ حکومتی انتباہات بھی ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ جس طرح دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن کے لیے تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کارروائی کی جا رہی ہے اسی طرح ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والی غیر ملکی این جی اوز کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی.

قومی سطح پر وسیع تر مشاورت اور پالیسی سازی کا اہتمام ضروری ہے۔ اس لیے کہ جس طرح دہشت گردی سے حکومتی رٹ اور قومی خودمختاری کو خطرہ ہے اسی طرح غیر ملکی این جی اوز کا ملکی مفاد و قانون اور حکومتی ہدایات و انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے دندناتے پھرنا بھی قومی خودمختاری اور ملکی.

سالمیت کے لیے سنگین خطرہ کی حیثیت رکھتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پر آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ان این جی اوز کو کھلی چھٹی دینے کے آرڈرز بھی ہمارے امریکی وائسرائے امریکہ سے ڈائریکٹ لیتے ہیں اسی لیے آج تک ان کے خلاف کچھ نہیں کیا جا سکا۔

2015 میں اس وقت کے وزیر داخلہ.

چوہدری نثار علی خان نے کوشش کی تھی لیکن جی ایچ کیو سے ڈانٹ ڈپٹ کے بعد خاموشی اختیار کر لی۔

دوستو!

یہ لوگ ہم سے ہمارا ملک ہی نہیں بلکہ ہمارا دین، ہماری ثقافت، ہماری روایات سب کچھ چھین لینا چاہتے ہیں۔

بنتے جاؤ کاٹھے انگریز

جزاک اللہ خیرا کثیرا .



.

NGO, flag of Pakistan, Pakistan, NGO working in Pakistan,

.

Part-1  کاٹھے انگریز.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

.

Monday, February 13, 2023

کاٹھے انگریز


Freedom of speech, religion, islam, secularism


کاٹھے انگریز"


پیارے پاکستانیوں!

پاکستان میں اسلام اور سیکولرازم کی بحث ایک طویل عرصہ سے جاری ہے۔ سیکولر حضرات اپنے موقف کے دفاع میں کہتے ہیں کہ سیکولرازم کا مطلب لا دینیت نہیں بلکہ اس کا مطلب دنیاویت ہے۔ ان کے مطابق چونکہ دین اور سیاست دو مختلف نظریات ہیں اس لیے ایک ایسے.

نظام کی ضرورت ہے جو تمام مذاہب کو برابر کی مذہبی آزادی دے سکے تاکہ ملک کے باشندے ذاتی اور شخصی حیثیت میں جتنی چاہیں عبادت کرتے رہیں۔

صیہونیوں کا یہ ہتھیار ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کی تباہی کے لیے سلو پوائزنگ کرتے ہیں تاکہ زہر آہستہ آہستہ اثر کرے اور آخر کار معاشرے کی تباہی کا.

باعث بنے۔

وہ سیکولرازم کا ایک مفہوم رواداری بھی بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سیکولرازم سے تمام مذاہب میں رواداری پیدا ہوتی ہے۔ سیاسی لحاظ سے وہ یہ دلیل بھی بڑے زور و شور سے بیان کرتے ہیں کہ قائدِ اعظم نے گیارہ اگست 1947 کو پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آپ آزاد ہیں۔.

.

سیکولر حضرات دین کو زندگی کا ایک خوش نما شعبہ بنا کر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ جس سے آدمی نماز روزے وغیرہ میں پوری طرح منہمک ہو جائے اور باقی معاملات سے دست بردار ہو جائے۔

یعنی میرا جسم میری مرضی جائز ہو جائے کل کو گے میرج بھی جائز قرار دے دی جائے۔

Islam and secularism


آپ کچھ نہ بولیں صرف نماز اور.

روزوں میں لگے رہیں۔

دوستو!

 قرآن و سنت کی تعلیمات انسانی زندگی کا ایک ہمہ گیر تصور پیش کرتی ہیں۔ اس تصور کے مطابق اسلام صرف مراسمِ عبودیت تک محدود نہیں بلکہ یہ زندگی کے تمام معاملات کے متعلق ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

قرآن کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلامی ریاست میں حاکمیت.

‏اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے، ساری دنیا کی مخلوق مل کر بھی اس کی حاکمیت کو چیلنج نہیں کر سکتی۔ اسلامی ریاست قرآن و سنت کی تعلیمات کو نافذ کرتی ہے اور اس کے مطابق معاشرے کو سیاسی، معاشرتی، معاشی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کو ڈھالتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سیکولرازم جس مذہبی آزادی ک.

‏دعویٰ کرتا ہے کیا وہ دینِ اسلام کے اس تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟ جس میں مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں۔ ظاہر ہے جواب نفی میں ہوگا۔ کیونکہ سیکولر ریاست میں بالادستی اسلام کی نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ   ہے کہ سیکولر حضرات مذہب کا محدود تصو.

پیش کرتے ہیں۔

لیکن ایسا تصور پیش کر کے وہ خود مذہبی معاملات میں مداخلت کے مرتکب ہوتے ہیں۔

سیکولرازم ایک منفی اور مہلک نظریہ ہے۔ جس کی بالادستی قبول نہیں کی جاسکتی۔ ان چند نکات سے ہی بات واضح ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کو اس باطل نظام کے مقابلے میں ڈٹ کر بات کرنی چاہیے۔.

دوستو!

آج اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھیں، میڈیا کو دیکھیں آپ کو صاف نظر آئے گا کہ ایک طاقت جسے اب سب جانتے ہیں اپنے کارندوں جن میں سیاستدان ، جج، بیوروکریٹس، کاروباری حضرات، میڈیا سے پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کے درپے ہے۔

لوگ اپنے بچوں کو انگریزی بولتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں .

اپنی بیٹیوں کو مغربی لباس میں ملبوس دیکھ کر واہ واہ کرتے ہیں شوق سے پہناتے ہیں اور نساب تعلیم سے اقبال کو غائب کر کے ونسٹن چرچل پڑھا کر خوش ہوتے ہیں۔

ایک مثال سنی ہو گی کہ!

" آدھا تیتر آدھا بٹیر "

میں ایسے لوگوں کو " کاٹھا انگریز" کہتی ہوں 

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا.

 اے ایمان والو ! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک ان ہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔ "

(المائدہ 51)

مسلمان ہیں تو قرآن کی مان لیں .

‏اور اگر مسلمان صرف شو شاہ کے ہیں تو پھر آپ بھی!

"کاٹھے انگریز"

بن جائیں میں نے کون سا آپ کے اعمال کا حساب دینا ہے۔ پیغام دینا تھا فرض سمجھ کر پہنچا دیا۔

Secularism, islam, religion


کاٹھے انگریز Part -2 

 

جزاک اللہ خیرا کثیرا ..